Aulade Narina


حضرت شاہ ابو المعالی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہتحریر فرماتے ہیں ایک شخص نے حضرت سیدناغوث پاک رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہکی خدمت عالیہ میں حاضر ہو کر عرض کیا:’’آپ رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہکے اس دربارمیں حاجتیں پوری ہوتی ہیں اوریہ نجات پانے کی جگہ ہے پس میں اس بارگاہ میں ایک لڑکا طلب کرنے کی التجا کرتا ہوں ۔‘‘ تو سرکارِبغداد،حضورِغوث پاک رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہنے ارشاد فرمایا:’’میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا کردی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے وہ چیز عطا فرمائے جو تو چاہتا ہے۔‘‘ وہ آدمی روزانہ آپ رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہکی مجلس شریف میں حاضر ہونے لگا،قادر مطلق کے حکم سے اس کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی، وہ شخص لڑکی کو لے کر خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا: ’’حضور والا(رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ)!ہم نے تو لڑکے کے متعلق عرض کیا تھا اور یہ لڑکی ہے۔‘‘ تو حضرت سیدناغوث اعظمرَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہنے ارشادفرمایا:’’اس کو لپیٹ کر اپنے گھر لے جاؤ اورپھر پردہ غیب سے قدرت کا کرشمہ دیکھو۔‘‘تو وہ حسب ارشاد اس کو لپیٹ کر گھر لے آیا اور دیکھا تو قدرت الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے بجائے لڑکی کے لڑکا پایا۔‘‘(تفریح الخاطر،ص۱۸)